Murad Saeed engagement report
@MuradSaeedPTI - 5.5M followers on X
Measured over 10 original posts from a 30-day window, last computed on October 7, 2026.
Engagement
A typical post picks up 18K interactions against 5.5M followers, an engagement rate of 0.326%. Measured over 10 original posts, its engagement rate beats 89% of 15,519 tracked accounts of a similar size. Comparing inside a size band matters here: engagement rate falls as accounts grow, so a raw rate would mostly just re-measure the follower count. Posts are seen about 183K times each, and 9.79% of those impressions turn into an interaction. That is about 3.33% of the follower count, which is the gap between an audience on paper and an audience in a timeline. Posting runs at about 2.7 posts a day over the last 30 days, with activity on roughly 57% of days. Most posts go out around 15:00 UTC, and Sunday is the busiest day of the week. Of the 10 posts sampled, 60% carry an image or video and 10% are part of a thread. The account's strongest tracked post pulled 115K interactions, about 16x its own typical post. Recurring topics include #endenforceddissapearences, #happybirthdayimrankhan, #may9th_falseflag.
Measured over 10 original posts from a 30-day window, last computed on October 7, 2026. Recurring tags: #endenforceddissapearences, #happybirthdayimrankhan, #may9th_falseflag.
Compared with accounts its own size
Murad Saeed's engagement rate beats 89% of the tracked X accounts closest to it in follower count (15,519 accounts, accounts of similar size (decile 10 of 10)). A percentile is spread evenly by construction, so 50 really is the middle of that group and 90 really is its top tenth.
On engagement per impression rather than per follower it beats 98% of the same group. When those two numbers disagree, the gap is about how far its posts travel rather than how people react to them.
Where this sits in the catalog
At 0.326%, Murad Saeed sits above the 50th percentile of the 156,148 accounts in this comparison. That places it in the above the median band, which runs 0.127% to 0.604%.
Show the percentile table
| Percentile | Engagement rate |
|---|---|
| 10th percentile | 0.003% |
| 25th percentile | 0.022% |
| 50th percentile | 0.127% |
| 75th percentile | 0.604% |
| 90th percentile | 2.32% |
| 99th percentile | 83.3% |
This ruler is the whole measured catalog, not a size-matched group: it shows where the raw rate falls across every account we can measure, all of which are large. For a like-for-like comparison, read the size-band percentile above instead. See how the bands are built
Posting timing
This account posts most often around 15:00 UTC, and Sunday is its busiest day of the week. The bars below are the catalog-wide pattern, with this account's own busiest slot marked. They do not show how this account performs at each hour: we keep one aggregate per account, not one per hour, so that measurement does not exist in our data.
Show engagement by hour posted, utc as a table
| Hour (UTC) | Vs author median | Posts |
|---|---|---|
| 00:00 UTC | -1% | 89K |
| 01:00 UTC | -2% | 90K |
| 02:00 UTC | -3% | 88K |
| 03:00 UTC | -4% | 94K |
| 04:00 UTC | -5% | 76K |
| 05:00 UTC | -4% | 75K |
| 06:00 UTC | -5% | 86K |
| 07:00 UTC | -5% | 93K |
| 08:00 UTC | -4% | 108K |
| 09:00 UTC | -4% | 124K |
| 10:00 UTC | -3% | 129K |
| 11:00 UTC | -3% | 141K |
| 12:00 UTC | -3% | 154K |
| 13:00 UTC | -3% | 167K |
| 14:00 UTC | -4% | 173K |
| 15:00 UTC | -2% | 176K |
| 16:00 UTC | -3% | 171K |
| 17:00 UTC | -3% | 159K |
| 18:00 UTC | -2% | 149K |
| 19:00 UTC | -2% | 141K |
| 20:00 UTC | -1% | 131K |
| 21:00 UTC | 0% | 116K |
| 22:00 UTC | -2% | 100K |
| 23:00 UTC | -1% | 90K |
Show engagement by day of week as a table
| Day | Vs author median | Posts |
|---|---|---|
| Sunday | +5% | 393K |
| Monday | +1% | 483K |
| Tuesday | -2% | 520K |
| Wednesday | -3% | 472K |
| Thursday | -2% | 430K |
| Friday | -3% | 447K |
| Saturday | +2% | 393K |
Formats this account uses
Its own posting mix on the left, and what each of those formats does across every account we track on the right. Only formats where the effect clears our publish test appear here, so an empty row is a format we could not measure rather than one that does nothing.
| Format | This account | Catalog effect | 95% interval | Accounts behind it |
|---|---|---|---|---|
| Image or video | 60% of posts | +111% | +108% to +115% | 34K |
| Outbound link | 0% of posts | -41% | -42% to -40% | 32K |
| Typical length | - | +15% | +14% to +16% | 32K |
- 60% of this account's sampled posts carry an image or video. Across the catalog, posts with an image or video run 111% above the same accounts' other posts.
- 0% of its posts carry a link off X. Across the catalog, posts with an outbound link run 41% below the same accounts' other posts.
- Its average post runs 1382 characters, which falls in the over 280 characters band. Across the catalog, posts over 280 characters run 15% above the same accounts' other posts.
These are catalog-wide differences applied to this account's own posting mix, not a measurement of how each format performs for this account specifically. We keep one median per account, not one per format per account, so the second thing is not something this data can tell you.
Best tweets
- Aug 26, 202516x their median
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔ ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔ فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا- فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔ عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔ عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔ ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔ 1/2
- Mar 23, 202614x their median
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔ جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” - ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام (21 مارچ، 2026)
- Oct 10, 202514x their median
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟” ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
- Jul 23, 20262.5x their median
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance. I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever. But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs. I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
- Oct 5, 2026
#HappyBirthdayImranKhan https://t.co/l4ZCLFB0oK
- Sep 24, 2026
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔ گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔ خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔ میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔ میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔ کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
- Oct 4, 2026
رجیم چینج کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے سامنے افغانستان سے طالبان کو واپس لانے کے منصوبے کو ڈی جی آئی اور آرمی چیف نے رکھا اور انہوں نے بغیر کسے چوں چرا کے لبیک کہا۔ وہی پلان جس پر عمران خان اور ہم نے ابسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ اگلے ہفتے افغانستان ایک وفد بھیجا گیا جس کو عوامی نمائندہ وفد کہا گیا۔ میں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھائے کہ منتخب اراکین میں سے کوئی نہیں گیا کس کو ہمارے فیصلے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟ جولائی ۲۰۲۲ کے آخری دن افغانستان سے طالبان کی پہلے تشکیل ہوئی۔اگست کے پہلے ہفتے میں جب سوات اور دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تو ہم نے مجبوراً عوامی طاقت سے ان کو واپس دھکیلا۔ پہلے آئ ایس آئی اور فوج نے دھمکیاں دیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ، پھر جب عوامی طاقت کے سامنے بے بس ہوئے تو مجھے الیونتھ کور،آئی ایس پی آر اور آیی ایس آیی سے فون کروایا کہ ”دیکھیں مراد صاحب وعدے کے مطابق آپ کا سوات کلییر ہوگیا ہے آپ نے باقیوں کو ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا”۔ٹھیکا تو ہم نے لے رکھا تھا، کہا جب تک یہ واپس نہیں جائیں گے مظاہرے جاری رہیں گے۔ اور ۱۶ اگست ۲۰۲۲ کو آخری بندہ بھی سرحد پار چلا گیا۔ آئ ایس پی آر نے اس کا کریڈٹ لیا۔ پریس ریلیز جاری کی۔ اس کے بعد تو امن ہونا چاہئے تھا ناں؟ سرحد پر باڑ لگی ہوئی تھی، سیکورٹی یقینی بنانی چاہئے تھی ناں؟ لیکن ستمبر ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پھر سے ان کو لانے کا انتظام کیا گیا۔ اس دفعہ دونوں جانب سے کالز موصول ہوئیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ۔ ہم کیسے رُک سکتے تھے؟ ہماری تو زندگیوں کا سوال تھا۔ عوام کو موبلائز کیا پھر بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں مظاہرہ کیا اور اگلے دن پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ فوج کی گاڑیاں آئیں، پولیس کو ہٹایا اور ان کو واپس افغانستان کی سرحد پر چھوڑ آئے۔ مجھے وارن کیا کہ یو ہیو کراسڈ دی لائن۔۔ کون سی لائن؟ امن قائم کرنا بھی فوج کی ریڈ لائن ہوگئی؟ پھر فیصلہ ہوا کہ مالاکنڈ والے تو آنے نہیں دے رہے لہذا جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے۔ یہ اطلاع ملتے ہی میں نے اسلام آباد میریٹ میں دہشت گردی کی واپسی اور نئی لہر کے عنوان سے میڈیا، تجزیہ نگاروں، سفارت کاروں، سابق پولیس افسران اور سیکورٹی ایکسپرٹس کے لیے سیمینار رکھا کہ پالیسی بدلیں ورنہ پھر جنازے اٹھیں گے۔ جنوبی اضلاع سے تحریک اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ پھر یوں ہوا کہ بغاوت، غداری، دہشت گردی کے مقدموں کے بعد سر کی قیمت بھی لگا دی اور یہ سب نو مئی سے پہلے ہوا۔ پھر اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نو مئی کا سہارا لیا گیا۔ اب بجائے اس کے کہ اپنی غلط پالیسی پر معافی مانگ کر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء، طلباء، وکلاء، سول سوسائٹی، میڈیا ودیگر کے جرگے میں بنی پالیسی اپنا کر دنوں میں امن حاصل کیا جائے اپنی اسی ڈالری جنگ کا ایندھن اپنے جوانوں اور شہریوں کو بنایا جا رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا مارچ اب صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں رہا۔ واضح ہوا کہ جو میڈ اپ دہشت گردی لائی گئی اب ایک مرتبہ پھر آپ کو اس کا ایندھن بنانے کے لیے عمران خان کی حکومت صوبے میں ختم کرکے وہی کھیل شروع کرنا ہے۔ پورے پختونخواہ کو پیغام دو اگر بے گھری سے بچنا ہے۔ آئی ڈی پی کیمپس کی زندگی نہیں چاہئے، مارٹر گولوں، لڑاکا طیاروں اور توپ کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ اپنے ہی گھر میں گلے میں شناختی پٹے ڈال کر چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے کے بعد، ان گھس بیٹھیوں کے اس سوال کا سامنا نہیں چاہتے کہ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جارہے ہو؟“ تو پوچھو کہ تم ہو کون ہمارے فیصلے کرنے والے؟ للکارو کہ ہم اپنے گھروں سے بے گھر نہیں ہوں گے۔ نکلو۔ کہ یہ لڑائ آج سے پہلے بھی صرف عمران خان کی نہیں تھی۔ اور آج تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داؤ پر لگی یہ زندگیاں تمہاری ہیں۔ جیل میں بیٹھا عمران خان، تمہارے ووٹوں سے بنی اس کی یہ حکومت تو محض ان خون آشام درندوں کے مقابلے میں تمہاری آخری ڈھال ہیں۔
- Oct 3, 2026
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔ کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔ افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔ امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔ ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔ تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔ ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔ ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔ امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔ تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟ یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
- Jul 28, 2026
عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
- Oct 3, 2026
https://t.co/lYeMG9rpwr
Ranked by total interactions across everything we have tracked for this account, which is a longer history than the 30-day window the rates above use. The multiple compares each post to this account's own median.
Recurring topics
The most frequent hashtags in the sampled posts. They describe what this account writes about; they are not a performance signal, and the catalog-wide breakdown on the hub shows how little hashtag count moves.
Buy or sell Twitter (X) accounts - escrow-protected
PlayerSells is an escrow marketplace for Twitter (X) accounts. Every deal is protected, with no middleman risk.
Reading these numbers
A typical post picks up 18K interactions against 5.5M followers, an engagement rate of 0.326%. Measured over 10 original posts, its engagement rate beats 89% of 15,519 tracked accounts of a similar size. Comparing inside a size band matters here: engagement rate falls as accounts grow, so a raw rate would mostly just re-measure the follower count. Posts are seen about 183K times each, and 9.79% of those impressions turn into an interaction. That is about 3.33% of the follower count, which is the gap between an audience on paper and an audience in a timeline. Posting runs at about 2.7 posts a day over the last 30 days, with activity on roughly 57% of days. Most posts go out around 15:00 UTC, and Sunday is the busiest day of the week. Of the 10 posts sampled, 60% carry an image or video and 10% are part of a thread. The account's strongest tracked post pulled 115K interactions, about 16x its own typical post. Recurring topics include #endenforceddissapearences, #happybirthdayimrankhan, #may9th_falseflag.
- What is Murad Saeed's engagement rate on X?
- Murad Saeed (@MuradSaeedPTI) has an engagement rate of 0.326%, based on the median interactions across 10 original posts from the last 30 days against 5,481,373 followers. Replies, reposts and quote-posts of other people are excluded from that sample.
- Is that a good engagement rate?
- At 0.326%, Murad Saeed sits above the 50th percentile of the 156,148 accounts in this comparison. Those comparison accounts are all large ones, because our scanning cadence is weighted towards big accounts, so this is a ranking among peers of similar scale rather than a ranking across X.
- Does @MuradSaeedPTI have real engagement?
- Its engagement rate beats 89% of the tracked X accounts closest to it in follower count (15,519 accounts), which puts it in the top quarter for its size group. Ranking inside a size band matters because engagement rate falls as accounts grow, so a raw rate would mostly re-measure the follower count. It is a starting point for a look at follower quality, not a verdict on it.
- When does @MuradSaeedPTI post?
- Most posts go out around 15:00 UTC, and Sunday is its busiest day, at roughly 2.67 posts per day across the measured window.