Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan engagement report
@juipakofficial - 296K followers on X
Measured over 39 original posts from a 30-day window, last computed on September 5, 2026.
Engagement
A typical post picks up 449 interactions against 296K followers, an engagement rate of 0.152%. Measured over 39 original posts, its engagement rate beats 69% of 6,874 tracked accounts of a similar size, which puts it in the middle of its size range rather than at either end. Posts are seen about 7.7K times each, and 5.81% of those impressions turn into an interaction. That is about 2.61% of the follower count, which is the gap between an audience on paper and an audience in a timeline. Posting runs at about 1.3 post a day over the last 30 days, though only 33% of days saw any activity at all. Most posts go out around 09:00 UTC, and Saturday is the busiest day of the week. Of the 39 posts sampled, 85% carry an image or video. The account's strongest tracked post pulled 1.4K interactions, about 3.2x its own typical post.
Measured over 39 original posts from a 30-day window, last computed on September 5, 2026.
Compared with accounts its own size
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan's engagement rate beats 69% of the tracked X accounts closest to it in follower count (6,874 accounts, accounts of similar size (decile 7 of 10)). A percentile is spread evenly by construction, so 50 really is the middle of that group and 90 really is its top tenth.
On engagement per impression rather than per follower it beats 91% of the same group. When those two numbers disagree, the gap is about how far its posts travel rather than how people react to them.
Where this sits in the catalog
At 0.152%, Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan sits above the 50th percentile of the 66,128 accounts in this comparison. That places it in the above the median band, which runs 0.1% to 0.499%.
Show the percentile table
| Percentile | Engagement rate |
|---|---|
| 10th percentile | 0.002% |
| 25th percentile | 0.016% |
| 50th percentile | 0.1% |
| 75th percentile | 0.499% |
| 90th percentile | 2.09% |
| 99th percentile | 119.9% |
This ruler is the whole measured catalog, not a size-matched group: it shows where the raw rate falls across every account we can measure, all of which are large. For a like-for-like comparison, read the size-band percentile above instead. See how the bands are built
Posting timing
This account posts most often around 09:00 UTC, and Saturday is its busiest day of the week. The bars below are the catalog-wide pattern, with this account's own busiest slot marked. They do not show how this account performs at each hour: we keep one aggregate per account, not one per hour, so that measurement does not exist in our data.
Show engagement by hour posted, utc as a table
| Hour (UTC) | Vs author median | Posts |
|---|---|---|
| 00:00 UTC | -1% | 89K |
| 01:00 UTC | -2% | 90K |
| 02:00 UTC | -3% | 88K |
| 03:00 UTC | -4% | 94K |
| 04:00 UTC | -5% | 76K |
| 05:00 UTC | -4% | 75K |
| 06:00 UTC | -5% | 86K |
| 07:00 UTC | -5% | 93K |
| 08:00 UTC | -4% | 108K |
| 09:00 UTC | -4% | 124K |
| 10:00 UTC | -3% | 129K |
| 11:00 UTC | -3% | 141K |
| 12:00 UTC | -3% | 154K |
| 13:00 UTC | -3% | 167K |
| 14:00 UTC | -4% | 173K |
| 15:00 UTC | -2% | 176K |
| 16:00 UTC | -3% | 171K |
| 17:00 UTC | -3% | 159K |
| 18:00 UTC | -2% | 149K |
| 19:00 UTC | -2% | 141K |
| 20:00 UTC | -1% | 131K |
| 21:00 UTC | 0% | 116K |
| 22:00 UTC | -2% | 100K |
| 23:00 UTC | -1% | 90K |
Show engagement by day of week as a table
| Day | Vs author median | Posts |
|---|---|---|
| Sunday | +5% | 393K |
| Monday | +1% | 483K |
| Tuesday | -2% | 520K |
| Wednesday | -3% | 472K |
| Thursday | -2% | 430K |
| Friday | -3% | 447K |
| Saturday | +2% | 393K |
Formats this account uses
Its own posting mix on the left, and what each of those formats does across every account we track on the right. Only formats where the effect clears our publish test appear here, so an empty row is a format we could not measure rather than one that does nothing.
| Format | This account | Catalog effect | 95% interval | Accounts behind it |
|---|---|---|---|---|
| Image or video | 85% of posts | +111% | +108% to +115% | 34K |
| Outbound link | 3% of posts | -41% | -42% to -40% | 32K |
| Typical length | - | +15% | +14% to +16% | 32K |
- 85% of this account's sampled posts carry an image or video. Across the catalog, posts with an image or video run 111% above the same accounts' other posts.
- 3% of its posts carry a link off X. Across the catalog, posts with an outbound link run 41% below the same accounts' other posts.
- Its average post runs 1090 characters, which falls in the over 280 characters band. Across the catalog, posts over 280 characters run 15% above the same accounts' other posts.
These are catalog-wide differences applied to this account's own posting mix, not a measurement of how each format performs for this account specifically. We keep one median per account, not one per format per account, so the second thing is not something this data can tell you.
Best tweets
- Aug 30, 20263.2x their median
ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے۔ تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، اسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں۔ تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ اپنے اسی سال کا محاسبہ کیجیے۔ ہر زمانے میں تم تھے، یا تم جیسے اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہارا مفاد تھا، تو وہ بھی تمہارا، اور جو آج ہم تنزّل میں گرے ہیں، وہ تمہارے اس اسی سالہ فکر و نظر اور اسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک۔ اس کو اَنا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔ جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔ میں اس سے کیوں ڈروں؟ میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب
- Aug 25, 20261.9x their median
تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔ اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔ ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔ اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔ اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔ اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔ تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب 25 اگست 2026
- Aug 28, 20261.8x their median
میں 1988 سے اسمبلی میں ہوں، اور میری زندگی کا جو سیاسی آغاز ہے، وہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف مارشل لاء کی تحریک ہے۔ تو میری سیاست کی ابتداء ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی ہے۔ اتار چڑھاؤ سیاست میں آتے رہتے ہیں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب #حقیقی_رہنماء_مولانا #ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل #کالے_چینلز_فلاپ #پیڈ_چمچے #بیوٹی_پالر_برگیڈ
- Aug 26, 20261.8x their median
جو ترمیم ہوئی ہے، ہم آپس میں بیٹھے ہیں۔ میں کھل کر آپ سے کہنا چاہتا ہوں، ہم نے واک آؤٹ تو کیا، لیکن ہم نے قانون کا مطالعہ نہیں کیا۔اگر ہم اس قانون کا مطالعہ کر لیتے تو ہم پہلے لڑتے، اپنا پوائنٹ آف ویو دیتے، بحث کرتے۔ اگر وہ زبردستی ووٹ کا مرحلہ آتا تو پھر ہم نکل کر واک آوٹ لیکن نشاندہی تو ہونی چاہیے تھی۔ وہ جو کسی زمانے سے بات چلی آ رہی ہے کہ ملک کے سیاسی نظام میں فوج کا کردار ہونا چاہیے اور اس کو قانون کے حوالے سے، اس کو کردار دیں تو یہ تو ترکی بنانا چاہتے تھے۔ ہم اتا ترکی حکومت بنانا چاہتے تھے کہ اس میں فوج کا کردار ہونا چاہیے۔ آج اس قانون کے ذریعے ان کو یہ کردار دے دیا گیا ہے۔ اور میں درخواست کروں گا بیرسٹر گوھر، علی ظفر صاحب سے بھی، علی ظفر صاحب سے بھی، کامران صاحب سے بھی، یہ بیٹھیں آپس میں اور آپ ان چیزوں کو ڈسکس کریں کہ کہاں کہاں پر کیا کچھ ہوا ہے اس کے اندر۔ وہ جو فیڈرل گورنمنٹ کے اختیارات تھے، فوج کے ادارے کے اختیارات کے حوالے سے جو ایک اختیارات تھے، جس میں بری فوج ہو، فضائی فوج ہو، بحری فوج ہو، اس کی قیادت میں ردوبدل کرنا، چھٹی دینا نہ دینا، ترقی دینا نہ دینا، کسی کی ملازمت میں۔۔۔یہ سارے اختیارات جو فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تھے، وہ آپ نے آج چیف آف ڈیفنس فورسز کو حوالے کر دیے ہیں۔ اور ان کو اگر آپ نے ایڈوائزر بھی بنا دیا ہے، ڈیفنس ایڈوائزر، تو اب وہ کیبنٹ میں بیٹھے گا۔ اب فیلڈ مارشل بھی ہو، آرمی چیف بھی ہو اور وہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، اور وہ کیبنٹ میں بیٹھا ہو۔ آپ بتائیں، فیصلے کون کرے گا؟ فیصلہ شریف صاحب کرے گا؟ اس کی کابینہ کرے گی؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب
- Aug 26, 20261.7x their median
جرمن سفیر کی وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد خطے کی سیاسی صورتحال، افغانستان و فلسطین، قیامِ امن، انسانی حقوق اور پاک جرمنی دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلۂ خیال اسلام آباد( ) : پاکستان میں متعین جرمنی کی سفیر اینا لیپل (Ina Lepel) نے وفد کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال، افغانستان کے حالات، امن و امان، انسانی حقوق، فلسطین کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور بھی زیر بحث آئے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے درپیش چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر بھی گفتگو ہوئی۔ جرمن سفیر اور وفد نے مختلف علاقائی و سیاسی معاملات پر جمعیت علمائے اسلام کے مؤقف کو تفصیل سے سنا اور اس کے مؤقف کی تحسین کی۔ جرمن وفد نے بالخصوص قیام امن، آئین کے تحفظ، جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے لیے جمعیت علمائے اسلام کی جدوجہد کو سراہا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ملاقات کے دوران افغانستان اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال سے جرمن وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے قیام، عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن و سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ جرمن وفد نے افغانستان اور فلسطین سے متعلق معاملات کے مثبت، پرامن اور قابلِ قبول حل کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا اور اس حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات میں اس امر پر بھی گفتگو ہوئی کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمے، سیاسی عمل، آئین و جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کا احترام ناگزیر ہے۔ جرمن سفیر کے ہمراہ وایولیٹا کُزمووا-آنند (Violetta Kuzmova-Anand)، فرسٹ سیکریٹری برائے مائیگریشن، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی (First Secretary, Migration, Human Rights and Rule of Law) اور اینا ایمانوئل (Anna Emmanuel)، کمیونیکیشن اینڈ پولیٹیکل سیکشن (Communication and Political Section) بھی موجود تھیں۔ جبکہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ، انجینئر ضیاء الرحمٰن اور مفتی ابرار ملاقات میں شریک تھے۔ @MoulanaOfficial @GermanyinPAK
- Aug 28, 20261.7x their median
چینیوں کی ایک کہاوت ہے کہ اگر ایک ہزار میل کا سفر کرنا ہو، تب بھی اس کی ابتداء پہلے قدم سے ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب الیکشن کے بعد جناب اسد قیصر صاحب کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کا ایک وفد میرے ہاں تشریف لایا تھا، پہلی ملاقات تھی، جس میں میں نے ان سے یہ عرض کیا تھا کہ آپ نے ایک اچھا آغاز کیا ہے، لیکن جو رکاوٹیں اور مشکلات ہمارے درمیان ہیں، ان کی بنیاد اب رکھ دی گئی ہے کہ اس کو تحلیل کیا جائے، اور تدریجی طور پر تحلیل ہوتی ہیں ساری چیزیں، بیک وقت نہیں ہوتیں۔ جسمانی طور پر بھی زخم یک دم آتا ہے، لیکن زخم وقت کے ساتھ ساتھ مندمل ہوتا ہے، ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔ بیماری یک دم آ جاتی ہے، لیکن اس بیماری کا ازالہ وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے، ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب
- Aug 29, 2026
کوہاٹ: ایسے لوگ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی پاکستان سے وفاداری پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ ارے! میں کوہاٹ کے اس جلسۂ عام سے آپ کو پیغام دے رہا ہوں کہ آپ تو ان کے لے پالک ہو، آپ تو ان کے کرایہ دار ہو۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے تو آپ کے آقا، اسٹیبلشمنٹ کو کہا تھا کہ میں اتنا پاکستانی ہوں، اتنا پاکستانی ہوں، اتنا پاکستانی ہوں کہ مجھے تمہاری پاکستانیت پر شک ہوتا ہے۔ تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی وفاداری اس وقت یاد آتی ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے انڈیا کے ساتھ تعلقات اس وقت نظر آتے ہیں جب وہ تمہاری پالیسیوں پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ اس سے پہلے تم گونگے، بہرے ہوتے ہو۔ "چلا تھا ذکر میری خامیوں کا محفل میں، جو لوگ بہرے تھے، ان کو سنائی دینے لگا۔" انجینئر ضیاء الرحمٰن کا خطاب
- Aug 29, 2026
کوہاٹ: جب مولانا فضل الرحمٰن صاحب، جمعیت علماء اسلام آپ کی امن کے حوالے سے پالیسیوں کو آپ کے سامنے آئینہ بن کر آپ کو دکھاتے ہیں، جب آپ کی معاشی پالیسیوں کو آئینہ بن کر آپ کو دکھاتے ہیں، اسلام کے حوالے سے آپ کی پالیسیوں کو آئینہ بن کر آپ کو دکھاتے ہیں، تو پھر آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔ پھر آپ اپنے پالتو، اپنے کرایا کے لوگوں کو جمعیت کے خلاف استعمال کرتے ہو۔ ان کو یوٹیوب چینلز پر استعمال کرتے ہو، ان کو الیکٹرانک چینلز پر استعمال کرتے ہو، اپنے لے پالک صحافیوں کو اس حق کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کرتے ہو۔ یاد رکھو! یہ راستہ ان مجاہدوں کا ، آپ کا آقا انگریز بھی یہ راستہ نہیں روک سکا، آپ تو اس کے غلاموں کے غلام ہو، آپ ہمارا راستہ کیسے روک سکو گے؟ انجینئر ضیاء الرحمٰن کا خطاب
- Aug 25, 2026
ان کو سیاسی جماعتیں بہت بری لگتی ہیں۔کہتے ہیں، ہارڈ اسٹیٹ ہونی چاہیے، سخت حکومت۔ بھئی سخت حکومت بھی، تم مسلمان ہو۔ ہمارے دینِ اسلام میں سیاست اور حکومت دونوں کے لیے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ التعامل بین اللطف والعنف، سختی اور نرمی کے درمیان کے رویوں کا نام سیاست ہے اور اس کا نام حکومت ہے۔ بالکل بھی اگر سخت نظام آپ چلائیں گے تو گھٹن پیدا ہوگی اور لوگ متنفر ہو جائیں گے، اور اگر بالکل بھی آپ نرمی کریں گے تو نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، بد نظمی آ جاتی ہے۔ تو دنیا کو بتا رہے ہیں کہ آپ معتدل بنیں، یعنی اعتدال پسند بنیں، تو اس اعتدال پسندی کا اعلان تو قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے کیا ہے: وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا۔ ہم نے تمہیں ایک میانہ رو امت بنایا ہے۔ تو یہاں پر بھی ایک شخص کے خیالات چلتے ہیں، شوریٰ نہیں ہے۔ میں بڑے ادب و احترام کے ساتھ اپنے سپہ سالار سے بھی آراء کرنا چاہوں گا کہ آپ اگر سپہ سالار ہیں تو اس منصب کے حوالے سے بھی جناب رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل سے کچھ رہنمائی لیں۔ غزوۂ اُحد پر جانے کے لیے مشاورت ہوئی تھی اور نوجوانوں کی اکثریت نے کہا: ہم میدان میں جا کر لڑیں گے، جبکہ خود رسول اللہ ﷺ کی رائے نہیں تھی، لیکن اکثریت کو مان لیا اور کہا: چلتے ہیں۔ جب نقصان ہوا، ستر صحابہ کرام شہید ہوئے، آپ کے چچا شہید ہوگئے، آپ کو خود زخم آئے، آپ کو غار میں پناہ لینے پڑی، تو میں جب اپنے طور پر سوچتا ہوں کہ یہ منظر دیکھ کر ،،،، نبوی ﷺ کو کس کرب سے گزرنا پڑا ہوگا۔ اور امکان ہے کہ ان کو یہ بھی خیال آیا ہو کہ میں نے ان سے مشورہ کیوں کیا؟ میں تو خود پیغمبر ہوں، جو میں فیصلہ کروں ان کو ماننا پڑے گا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ۔ یہاں صحابہ کرام کی سفارش ہو رہی ہے۔ اس سے مبارک جماعت کائنات میں اور ہو سکتی ہے کہ جس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اللہ سفارش کر رہے ہیں، ان کی، کہ ہم نے تو آپ کو ان کے لیے نرم پیدا کیا ہے۔ اگر آپ سخت رویوں والے ہوتے تو یہ تو آپ سے بھاگ جاتے۔ کون آپ کے سامنے صاف بات کرتا؟ یہ دِل دِل بکر جاتے، آپ کے نور اور آپ کی برکات سے محروم رہ جاتے، آپ کی تعلیمات سے محروم رہ جاتے۔ اب ایسا کرو کہ ان کو معاف بھی کر دو، ان کے لیے بخشش بھی مانگو اور ان سے مشورہ بھی کیا کرو۔ تو ہم اس لیے مسلمان ہیں کہ ہم اللہ کے قرآن سے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی لیں اور پھر عمل کریں۔ یہاں میں طاقتور ہوں اور بس، جب طاقتور ہوں تو پھر میں جیسے چاہوں کروں، تو یہ نہیں چلے گا۔ تو ہمیں رویوں میں تبدیلی لائیں۔ آج مغرب ہمیں کہتا ہے اعتدال، جبکہ اعتدال کی اولین تعلیم قرآن کریم نے دی ہے۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسلامی امت اور مسلمانوں اور مذہبی لوگوں کو آج شدت پسند اور انتہا پسند کہا جا رہا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 23 اگست 2026
- Aug 27, 2026
جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا مدلل خطاب https://t.co/jyEdWIipNc
Ranked by total interactions across everything we have tracked for this account, which is a longer history than the 30-day window the rates above use. The multiple compares each post to this account's own median.
Buy or sell X accounts - escrow-protected
PlayerSells is an escrow marketplace for X accounts. Every deal is protected, with no middleman risk.
Reading these numbers
A typical post picks up 449 interactions against 296K followers, an engagement rate of 0.152%. Measured over 39 original posts, its engagement rate beats 69% of 6,874 tracked accounts of a similar size, which puts it in the middle of its size range rather than at either end. Posts are seen about 7.7K times each, and 5.81% of those impressions turn into an interaction. That is about 2.61% of the follower count, which is the gap between an audience on paper and an audience in a timeline. Posting runs at about 1.3 post a day over the last 30 days, though only 33% of days saw any activity at all. Most posts go out around 09:00 UTC, and Saturday is the busiest day of the week. Of the 39 posts sampled, 85% carry an image or video. The account's strongest tracked post pulled 1.4K interactions, about 3.2x its own typical post.
- What is Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan's engagement rate on X?
- Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) has an engagement rate of 0.152%, based on the median interactions across 39 original posts from the last 30 days against 296,335 followers. Replies, reposts and quote-posts of other people are excluded from that sample.
- Is that a good engagement rate?
- At 0.152%, Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan sits above the 50th percentile of the 66,128 accounts in this comparison. Those comparison accounts are all large ones, because our scanning cadence is weighted towards big accounts, so this is a ranking among peers of similar scale rather than a ranking across X.
- Does @juipakofficial have real engagement?
- Its engagement rate beats 69% of the tracked X accounts closest to it in follower count (6,874 accounts), which puts it in the middle of its size range group. Ranking inside a size band matters because engagement rate falls as accounts grow, so a raw rate would mostly re-measure the follower count. It is a starting point for a look at follower quality, not a verdict on it.
- When does @juipakofficial post?
- Most posts go out around 09:00 UTC, and Saturday is its busiest day, at roughly 1.3 posts per day across the measured window.