Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan engagement report
@juipakofficial - 298K followers on X
Measured over 38 original posts from a 30-day window, last computed on October 19, 2026.
Engagement
A typical post picks up 420 interactions against 298K followers, an engagement rate of 0.141%. Measured over 38 original posts, its engagement rate beats 66% of 20,444 tracked accounts of a similar size, which puts it in the middle of its size range rather than at either end. Posts are seen about 6.6K times each, and 6.40% of those impressions turn into an interaction. That is about 2.20% of the follower count, which is the gap between an audience on paper and an audience in a timeline. Posting runs at about 1.3 post a day over the last 30 days, though only 20% of days saw any activity at all. Most posts go out around 15:00 UTC, and Wednesday is the busiest day of the week. Of the 38 posts sampled, 76% carry an image or video. The account's strongest tracked post pulled 1.4K interactions, about 3.4x its own typical post. Recurring topics include #maulanainmultan, #معمار_آئین_مفتی_محمود, #مفتی_محمود_کانفرنس_ملتان.
Measured over 38 original posts from a 30-day window, last computed on October 19, 2026. Recurring tags: #maulanainmultan, #معمار_آئین_مفتی_محمود, #مفتی_محمود_کانفرنس_ملتان.
Compared with accounts its own size
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan's engagement rate beats 66% of the tracked X accounts closest to it in follower count (20,444 accounts, accounts of similar size (decile 9 of 10)). A percentile is spread evenly by construction, so 50 really is the middle of that group and 90 really is its top tenth.
On engagement per impression rather than per follower it beats 92% of the same group. When those two numbers disagree, the gap is about how far its posts travel rather than how people react to them.
Where this sits in the catalog
At 0.141%, Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan sits above the 25th percentile of the 205,261 accounts in this comparison. That places it in the below the median band, which runs 0.024% to 0.143%.
Show the percentile table
| Percentile | Engagement rate |
|---|---|
| 10th percentile | 0.004% |
| 25th percentile | 0.024% |
| 50th percentile | 0.143% |
| 75th percentile | 0.678% |
| 90th percentile | 2.55% |
| 99th percentile | 82.4% |
This ruler is the whole measured catalog, not a size-matched group: it shows where the raw rate falls across every account we can measure, all of which are large. For a like-for-like comparison, read the size-band percentile above instead. See how the bands are built
Posting timing
This account posts most often around 15:00 UTC, and Wednesday is its busiest day of the week. The bars below are the catalog-wide pattern, with this account's own busiest slot marked. They do not show how this account performs at each hour: we keep one aggregate per account, not one per hour, so that measurement does not exist in our data.
Show engagement by hour posted, utc as a table
| Hour (UTC) | Vs author median | Posts |
|---|---|---|
| 00:00 UTC | -1% | 89K |
| 01:00 UTC | -2% | 90K |
| 02:00 UTC | -3% | 88K |
| 03:00 UTC | -4% | 94K |
| 04:00 UTC | -5% | 76K |
| 05:00 UTC | -4% | 75K |
| 06:00 UTC | -5% | 86K |
| 07:00 UTC | -5% | 93K |
| 08:00 UTC | -4% | 108K |
| 09:00 UTC | -4% | 124K |
| 10:00 UTC | -3% | 129K |
| 11:00 UTC | -3% | 141K |
| 12:00 UTC | -3% | 154K |
| 13:00 UTC | -3% | 167K |
| 14:00 UTC | -4% | 173K |
| 15:00 UTC | -2% | 176K |
| 16:00 UTC | -3% | 171K |
| 17:00 UTC | -3% | 159K |
| 18:00 UTC | -2% | 149K |
| 19:00 UTC | -2% | 141K |
| 20:00 UTC | -1% | 131K |
| 21:00 UTC | 0% | 116K |
| 22:00 UTC | -2% | 100K |
| 23:00 UTC | -1% | 90K |
Show engagement by day of week as a table
| Day | Vs author median | Posts |
|---|---|---|
| Sunday | +5% | 393K |
| Monday | +1% | 483K |
| Tuesday | -2% | 520K |
| Wednesday | -3% | 472K |
| Thursday | -2% | 430K |
| Friday | -3% | 447K |
| Saturday | +2% | 393K |
Formats this account uses
Its own posting mix on the left, and what each of those formats does across every account we track on the right. Only formats where the effect clears our publish test appear here, so an empty row is a format we could not measure rather than one that does nothing.
| Format | This account | Catalog effect | 95% interval | Accounts behind it |
|---|---|---|---|---|
| Image or video | 76% of posts | +111% | +108% to +115% | 34K |
| Outbound link | 3% of posts | -41% | -42% to -40% | 32K |
| Typical length | - | +15% | +14% to +16% | 32K |
- 76% of this account's sampled posts carry an image or video. Across the catalog, posts with an image or video run 111% above the same accounts' other posts.
- 3% of its posts carry a link off X. Across the catalog, posts with an outbound link run 41% below the same accounts' other posts.
- Its average post runs 1034 characters, which falls in the over 280 characters band. Across the catalog, posts over 280 characters run 15% above the same accounts' other posts.
These are catalog-wide differences applied to this account's own posting mix, not a measurement of how each format performs for this account specifically. We keep one median per account, not one per format per account, so the second thing is not something this data can tell you.
Best tweets
- Aug 30, 20263.4x their median
ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے۔ تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، اسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں۔ تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ اپنے اسی سال کا محاسبہ کیجیے۔ ہر زمانے میں تم تھے، یا تم جیسے اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہارا مفاد تھا، تو وہ بھی تمہارا، اور جو آج ہم تنزّل میں گرے ہیں، وہ تمہارے اس اسی سالہ فکر و نظر اور اسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک۔ اس کو اَنا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔ جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔ میں اس سے کیوں ڈروں؟ میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب
- Sep 18, 20263.4x their median
میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت کو یہاں سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے میدانِ جہاد میں اترنے کے لیے تیار ہے۔ حرمین پر جان بھی قربان ہے، امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا کراچی میں خطاب
- Sep 16, 20263.3x their median
مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا ۔مولانا فضل الرحمان مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں اربوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے ۔مولانا فضل الرحمان خاکم بدہن اگر یہ حملہ ہوا تو بدبخت حملہ آور عالم اسلام کے غیض وغضب سے نہیں بچ پائیں گے ۔مولانا فضل الرحمان امت مسلمہ پوری شدت سے اس حملے کا بھرپور جواب اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنائے گی ۔مولانا فضل الرحمان مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان اس نازک اور مشکل وقت میں سعودی عرب اور حرم مکی کے تحفظ میں صف اول کا کردار ادا کرے ۔مولانا فضل الرحمان پاکستان مکہ مکرمہ کے تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی کا فوری اعلان کرے ۔مولانا فضل الرحمان امت مسلمہ کو آئے روز درپیش چینلجزسے مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس کی جا رہی ہے ۔مولانا فضل الرحمان جمعیت علماء اسلام کے لاکھوں کارکن مملکت سعودیہ پر حملے کے دکھ درد میں شریک ہیں ۔مولانا فضل الرحمان سعودی عرب پر حملے نے امریکہ اور مغربی دنیا کے دوغلے رویے کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ۔مولانا فضل الرحمان میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
- Sep 8, 20263.1x their median
ملک تمہاری پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹا ہے،یہی ہماری فوج کی حکومت تھی، اور چار صوبوں کو ایک صوبہ کیاگیا، ون یونٹ لگا دیا گیا۔ مغربی پاکستان چار صوبوں والا، اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا، صوبہ مغربی پاکستان،،،،یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی۔ اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ ہے۔ ویسے خامخواہ کاکے کو آگے کیا گیا، وہ بھی ان کی سوچ تھی، یہ بھی ان کی سوچ ہے۔ تم پاکستان کے مالک ہو، جب چاہو پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دو، اور جب چاہو چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ تو ہر فیصلے کے پیچھے تمہارے اپنے عزائم ہوتے ہیں، وہاں قوم کو مفاد نہیں ہوا کرتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کریں گے۔ ہم خیرخواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں۔ لیکن تمہارا مزاج بن گیا ہے کہ تمہیں خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے، لیکن تمہارے سامنے کوئی سیدھی بات کرے تو وہ تمہیں بری لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو آپ کی ملکیت نہیں مانتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ہیں۔ یونٹیں بنتی رہتی ہیں، ہندوستان میں بھی بنی ہیں، افغانستان میں بھی بنی ہیں، دوسرے ملکوں میں بھی بنی ہیں، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے۔ ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا، دو تین آپشنز ہیں، یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی۔ یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کی منشا سے فیصلہ کیا جائے۔ لیکن آپ نے ان پر تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوا صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اور جب میں نے ان کو جوابات دیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل مجھے کہتا ہے، کسی اور کو نہیں، مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ تمہاری مرضی ہے، تم جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو کچھ کرو، اور پھر تم جب چاہو کچھ اور طریقہ بناؤ۔ روز آپ کا فیصلہ آج ناگزیر ہے، اور کل وہ فیصلہ آپ کا غلط ہے۔ ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندوں، جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ کیوں ایسا کرتے ہو؟ آخر لوگوں سے پوچھو۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیں، ڈیبیٹ کرنی چاہیے۔ یک طرفہ آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں۔ یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتی۔ یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسرِنو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں۔ تو ہم تو صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔ اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ۔۔۔۔ اب بتاؤ، جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے، کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی۔ ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ۔اس میں تضادات ہیں، تو ذاتی نوکر، پاکستان ہم ان کے حوالے کر دیں؟ یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا لاہور میں خطاب
- Oct 15, 20263.0x their median
براہِ راست ملتان| مفتی محمود کانفرنس |قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن و دیگر قائدین کا خطاب https://t.co/bR5NL7JEQK
- Oct 18, 20262.5x their median
جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس شروع اجلاس میں ملک بھر سے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین کی شرکت اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ سرفہرست https://t.co/WCTIzVe0oQ
- Oct 18, 20262.0x their median
اسلام آباد:سینیٹر کامران مرتضیٰ کی گفتگو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کئی آئینی و قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے، کامران مرتضیٰ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کارروائی میں آئینی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا، سینیٹر کامران مرتضیٰ صدرِ مملکت کی منظوری کے وقت اطمینان کی وجوہات تحریری طور پر سامنے آنی چاہئیں تھیں اور مواد بھی پیش ہونا چائیے تھا، کامران مرتضیٰ گورنر راج کے معاملے میں وزیراعظم کی سمری نہیں بلکہ گورنر کی رپورٹ بنیادی اہمیت رکھتی ہے جوکہ غائب ہے، سینیٹر کامران مرتضیٰ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے متعلقہ دستاویزات پارلیمان میں پیش نہیں کی گئیں، کامران مرتضیٰ مولانا فضل الرحمٰن کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو متعلقہ دستاویزات کے لیے خط لکھا گیا، سینیٹر کامران مرتضیٰ اسپیکر قومی اسمبلی نے خط موصول ہونے اور متعلقہ وزارت کو بھجوانے کی تصدیق کی، کامران مرتضیٰ دستاویزات پیش کیے بغیر پارلیمان سے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرائی گئی، سینیٹر کامران مرتضیٰ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات کے حوالے سے مختلف طرزِ عمل اختیار کیا گیا، سینیٹر کامران مرتضیٰ وفاقی کی طرف سے صوبوں کے حوالے کیا گیا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ آئین کے آرٹیکل 172 کی روح کے منافی ہے، کامران مرتضیٰ جمعیت علمائے اسلام کی ہدایت پر بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز قانون کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، سینیٹر کامران مرتضیٰ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز بل تاحال منظور نہیں ہوا، کامران مرتضیٰ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے پیچھے معدنی ذخائر پر قبضے کا ارادہ ہے، سینیٹر کامران مرتضیٰ سابقہ فاٹا کے معدنی ذخائر کو صوبے سے الگ کرکے وفاق کے زیرِ انتظام لانے کا منصوبہ زیرِ غور ہے، کامران مرتضیٰ معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا اس تمام معاملے کی بنیادی وجہ ہے، سینیٹر کامران مرتضیٰ اصل معاملہ معدنی ذخائر اور صوبے کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، کامران مرتضیٰ جمعیت علمائے اسلام آئین اور صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، سینیٹر کامران مرتضیٰ
- Oct 16, 20262.0x their median
آج ملک معاشی لحاظ سے تباہ حال ہو چکا ہے، آج آسی سال کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہندوستان کہاں کھڑا ہے؟ بنگلہ دیش کہاں پہنچ گیا ہے؟ ایران تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی معیشت پر قابو پائے ہوئے ہیں، افغانستان چھیالیس سال سے جنگوں کی آماجگاہ بن کر بھی وہ افغانستان جہاں پاکستان کا نو سو پاکستانی روپیے کی قیمت ایک لاکھ افغانی کی ہوا کرتی تھی آج وہ افغانی، آج وہ افغانی وہ پینسٹھ اور ستر روپے کے درمیان ڈالر کے مقابلے میں ہے اور آپ دو سو آسی روپے تک جا کر ڈالر کے مقابلے میں، بھوک اور پیاس ہے، کل میں خبر سن رہا تھا کہ کراچی میں ایک خاندان نے جہاں ماں باپ اور تین بچے لٹک گئے اور خودکشی کر لی ایک ہی بات تھی کہ وہ بھوکے تھے اور مزید وہ زندگی برداشت نہیں کر سکے، بچوں کی بھوک برداشت نہیں کر سکے، قوم یہاں تک پہنچ گئی ہے تمہاری وجہ سے، کہتے ہیں معیشت میں ترقی کے اشارے مل رہے ہیں کہ اشارے رکھو اپنے جیب میں، ہمیں غریب کا روزگار چاہیے، مہنگائی کے ہاتھوں کمر ٹوٹ گئی ہے قوم کی، بڑے بڑے بنگلوں میں اور بڑے بڑے عالیشان کوٹھیوں میں بیٹھ کر عیاشیاں کرنا آسان ہے، ذرا آؤ تو صحیح، ذرا میرے صوبے میں آؤ، کیا کوئی پرامن شہری گھر سے باہر نکل کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں خطاب
- Aug 25, 20262.0x their median
تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔ اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔ ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔ اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔ اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔ اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔ تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب 25 اگست 2026
- Oct 16, 20262.0x their median
ہم نے آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کی ہے، کس بات کی خودمختاری؟ یہ کوئی کنفیڈریش نہیں ہے کہ کوئی یونٹ جب چاہے آزادی حاصل کرے اور الگ ہو جائے، یہ فیڈریشن ہے کہ جس فیڈریشن کے تحت تمام یونٹیں اور تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں، اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں، لیکن ہر چند کے آئین صوبوں کو اختیار دیتا ہے، صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا، جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا، مجھے یاد ہے جب انیس سو تریہتر میں بلوچستان حکومت توڑی گئی اور وہاں گورنر راج نافذ کیا گیا وہ بھی پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن ستر کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھا جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھے اور اپنی وزارت کے منصف سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا، اور ماشاءاللہ جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے پنجاب میں لگا، بلوچستان میں لگا، خیبر پختونخواہ میں لگا، جب بھی لگا یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔ یہ ہماری تاریخ ہے ہمارے درمیان بعض دفعہ اتفاق بھی ہوتا ہے لیکن بہرحال یہ تاریخ ہے اس کو تنقید نہ سمجھا جائے، اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا جائے کہ آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا، لیکن ذرا اس گورنر راج کا جائزہ تو لے لیں ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی، اب آپ مجھے ایک بات بتائیں دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا، اس بات پر نہیں کہ ضم نہیں کیا جانا چاہیے ہم نے انضمام کی مخالفت نہیں کی تھی، ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ قبائلی عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، انضمام بھی ایک صورت ہو سکتی ہے، مستقل صوبہ بھی ایک صورت ہو سکتا ہے اور جس صورتحال میں چلا آ رہا ہے اس کو برقرار رکھنا بھی ایک صورت ہے، ان تینوں صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا، میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام یہ فاٹا کے عوام کے فائدہ میں تھا، وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، تو فاٹا میں بھی بدامنی ہے، تو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بدامنی ہے، تو ٹانک میں بھی بدامنی ہے، لکی مروت میں بھی بدامنی ہے، بنوں میں بھی بدامنی ہے، یہ صرف آپ کو دکھانے کے لیے کہ ہم نے یہ سارا کام بدامنی کی وجہ سے کیا ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟ تو آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار اگر کوئی بن سکتا تھا تو وہ تو صوبہ بلوچستان بن سکتا تھا، بلوچستان میں اس لیے نہیں لگا رہے کہ وہاں کا وزیر اعلیٰ آپ کا مدح سرا اور آپ کا حدی خوان ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے، بات پی ٹی آئی کی نہیں ہے، بات ایک کا اصول کی ہے کہ جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔ یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام اس کا مقابلہ کوئی پارٹی نہیں کرے گی۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں خطاب
Ranked by total interactions across everything we have tracked for this account, which is a longer history than the 30-day window the rates above use. The multiple compares each post to this account's own median.
Recurring topics
The most frequent hashtags in the sampled posts. They describe what this account writes about; they are not a performance signal, and the catalog-wide breakdown on the hub shows how little hashtag count moves.
Buy or sell Twitter (X) accounts - escrow-protected
PlayerSells is an escrow marketplace for Twitter (X) accounts. Every deal is protected, with no middleman risk.
Reading these numbers
A typical post picks up 420 interactions against 298K followers, an engagement rate of 0.141%. Measured over 38 original posts, its engagement rate beats 66% of 20,444 tracked accounts of a similar size, which puts it in the middle of its size range rather than at either end. Posts are seen about 6.6K times each, and 6.40% of those impressions turn into an interaction. That is about 2.20% of the follower count, which is the gap between an audience on paper and an audience in a timeline. Posting runs at about 1.3 post a day over the last 30 days, though only 20% of days saw any activity at all. Most posts go out around 15:00 UTC, and Wednesday is the busiest day of the week. Of the 38 posts sampled, 76% carry an image or video. The account's strongest tracked post pulled 1.4K interactions, about 3.4x its own typical post. Recurring topics include #maulanainmultan, #معمار_آئین_مفتی_محمود, #مفتی_محمود_کانفرنس_ملتان.
- What is Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan's engagement rate on X?
- Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) has an engagement rate of 0.141%, based on the median interactions across 38 original posts from the last 30 days against 298,064 followers. Replies, reposts and quote-posts of other people are excluded from that sample.
- Is that a good engagement rate?
- At 0.141%, Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan sits above the 25th percentile of the 205,261 accounts in this comparison. Those comparison accounts are all large ones, because our scanning cadence is weighted towards big accounts, so this is a ranking among peers of similar scale rather than a ranking across X.
- Does @juipakofficial have real engagement?
- Its engagement rate beats 66% of the tracked X accounts closest to it in follower count (20,444 accounts), which puts it in the middle of its size range group. Ranking inside a size band matters because engagement rate falls as accounts grow, so a raw rate would mostly re-measure the follower count. It is a starting point for a look at follower quality, not a verdict on it.
- When does @juipakofficial post?
- Most posts go out around 15:00 UTC, and Wednesday is its busiest day, at roughly 1.27 posts per day across the measured window.